تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 439
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کے قانون کو بدل دے۔ مثال کے طور پر اس ملک میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور ڈاکٹر عبد الكلام جب پیدا ہوئے تو وہ ایک پچھڑے ہوئے انسان تھے، مگر بعد کے زمانے میں لوگوں نے دیکھا کہ وہ دونوں افراد اگلی صف میں جگہ حاصل کر چکے تھے۔ منفی سوچ نہیں اگر کسی بات پر آپ کے اندر منفی سوچ پیدا ہو جائے، تو فوراً اس کو اپنے اندر سے ختم کر دیجیے۔ منفی سوچ کی نفسیات یہ ہے کہ اگر ایک بار آپ کے اندر کسی بات پر منفی سوچ پیدا ہو جائے تو وہ برابر جاری رہے گی۔ یہاں تک کہ وہ آپ کی کنڈیشننگ کا حصہ بن جائے گی۔ اس لیے منفی سوچ کو فوراً ختم کر دیجیے، اگر فوراً نہیں کیا تو پھر وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ انسان کے ذہن میں ہر وقت ٹرین آف تھاٹ (train of thought) چلتا رہتا ہے ۔ وہ نان اسٹاپ طور پر خود بخود چلتا ہے۔ ٹرین آف تھاٹ کو روکا ممکن نہیں۔ آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے ذہن میں منفی آئٹم نہ ڈالیں یا اگر کوئی منفی آئٹم پڑ گیا ہے تو فوراً اس کو نکال دیں۔ اگر آپ نے فوراً اس کو نہیں نکالا تو وہ مزید پختہ ہوتا چلا جائے گا۔ وہ آپ کی طبیعت ثانیہ (second nature) بن جائے گا۔ منفی سوچ کوئی سادہ بات نہیں۔ منفی سوچ آپ کے اندر تمام اچھی باتوں کے ڈیولپمنٹ کو روک دیتی ہے۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ چیزوں کو منفی زاویے سے سوچنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ آپ کے اندر مثبت سوچ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ آپ تخلیقی سوچ (creative thinking) کے قابل نہیں رہتے، اور سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ منفی سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں بار بار ایسے اسباب پیش آتے ہیں، جو آدمی کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader