تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 441
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل فہم بن رہی ہے۔ آپ کے ذہن کی تخلیقیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ جب بھی آپ کو کسی بات سے صدمہ پہنچے تو آپ صرف یہ کیجیے کہ آپ چپ ہو جائیے ۔ آپ ری ایکشن کے بجائے خاموشی کا طریقہ اختیار کیجیے۔ آپ ایک شخص پر سوچنے کے بجائے اصل ایشو پر سوچنا شروع کر دیجیے، اور پھر جلد آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ کی سوچ کے بند دروازے اچانک کھل گئے ہیں۔ غصہ کا نقصان اگر تاریخ کے تمام واقعات کو اکٹھا کیا جائے اور دیکھا جائے کہ جو کام بگڑا وہ کس لیے بگڑا، اور جو کام بنا وہ کس لیے بنا۔ اس کا جواب یقینی طور پر یہ ملے گا کہ جو کام بگڑے ان سب کے پیچھے غصہ اور نفرت کا عنصر موجود تھا۔ اس کے مقابلہ میں جو کام بنے ان سب کے پیچھے اعتدال پسندی اور عفو و درگزر کا عنصر پایا جاتا تھا۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے اندر نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اس کے اندر منفی نفسیات ابھر آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے فطری ذہن کے تحت سوچ نہیں پاتاہے۔ وہ غیر فطری انداز میں سوچتا ہے اور غیر فطری فیصلہ کرتا ہے۔ اور یہ ایک مسلّم بات ہے کہ فطرت کے راستہ سے ہٹ کر جو کام کیا جائے اس کا نا کام ہونا یقینی ہے۔ اس کے برعکس، جب ایسا ہو کہ آدمی کو غصہ آئے تو وہ اپنے آپ کو سنبھال لے۔ وہ اپنی عقل کی صلاحیت کو معتدل انداز میں استعمال کرے۔ ایسا کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ فطرت کے دائرہ میں رہتی ہے۔ وہ اپنے عمل کا جو منصوبہ بناتا ہے وہ فطرت کے اصول کے مطابق ہوتا ہے۔ اس بنا پر فطرت کا پورا نظام اس کی موافقت پر آ جاتا ہے۔ اور جس آدمی کو فطرت کے نظام کی موافقت حاصل ہو جائے اس کی کامیابی اتنی ہی یقینی ہے جتنا کہ رات کے بعد روشن صبح کا آنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader