Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 442

By Maulana Wahiduddin Khan

غصہ ایک آگ ہے۔ صبر و تحمل اس آگ کو بجھا دینے والا ہے۔ غصہ اگر روکا نہ جائے تو وہ نفرت اور تشدد پیدا کرتا ہے اور نفرت اور تشدد ایک ایسی برائی ہے جس سے زیادہ بڑی برائی شاید اور کوئی نہیں۔ صبر و تحمل کے ذریعہ اعلیٰ انسانی شخصیت بنتی ہے۔ اور بے صبری اور عدم برداشت انسان کو اخلاقی پستی میں گرا دینے والی ہے۔ غصہ منفی ذہن پیدا کرتا ہے اور غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہونا مثبت ذہن کی تشکیل کرتا ہے۔ مثبت سوچ اعلیٰ انسانیت کی پہچان ہے، اور منفی سوچ پست انسانیت کی پہچان۔ غصہ کا مثبت پہلو غصہ (anger) کو عام طور پر ایک بری چیز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن خالق نے کوئی بری چیز پیدا نہیں کی۔ غصہ بھی ایک تخلیق ہے۔ اس لیے وہ شر محض نہیں ہو سکتا۔ غصہ انسانی فطرت کے اندر جاری ہونے والا ایک عمل ہے۔ غصہ اپنے آپ نہیں آتا۔ غصہ آنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی آدمی آپ کو مشتعل کر دے۔ غصہ برین اسٹارمنگ (brainstorming) کا ذریعہ ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے دماغ میں غیر معمولی تعداد میں انرجی خارج (release) ہوتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے ایک بے حد اہم وقت ہوتا ہے۔ اس وقت آدمی کے لیے دو امکانات ہوتے ہیں۔ وہ اپنی خارج شدہ انرجی کو منفی رخ میں ڈائیورٹ (divert) کرے ۔ یا وہ اس کو مثبت رخ میں ڈائیورٹ کرے۔ آدمی اگر اپنی انرجی کو منفی رخ میں ڈائیورٹ کرے گا تو اس سے اس کے اندر ٹینشن، نفرت، انتقام حتیٰ کہ تشدد کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ یہ چیزیں بلاشبہ انسان کی ہلاکت کا ذریعہ ہیں۔ اس کے برعکس، اگر انسان اپنی انرجی کو مثبت رخ میں ڈائیورٹ کرے تو اس سے اُس کے اندر ذہنی ارتقا، فکری تخلیقیت، تعمیری مزاج اور مثبت سوچ پیدا ہوگی۔ اور یہ تمام چیزیں انسان کی شخصیت کی اعلیٰ تعمیر کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page