Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 443

By Maulana Wahiduddin Khan

غصہ کے وقت پیدا ہونے والی انرجی کو مثبت رخ میں ڈائیورٹ کرنے کے لیے کسی مزید کوشش کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل فطرت کے قانون کے تحت آدمی کے اندر اپنے آپ ظہور میں آتا ہے۔ شرط صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ کہ آدمی غصہ کے وقت چپ ہو جائے۔ اگر آدمی اس وقت اس ذہنی انضیاط (intellectual discipline) کا ثبوت دے تو اس کی فطرت خود عمل کرے گی اور غصہ کے وقت خارج ہونے والی انرجی کو اپنے آپ مثبت رخ پر موڑ دے گی۔ اینگر انرجی غصہ کو عام طور پر ایک منفی ظاہر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غصہ کا ایک مثبت پہلو ہے۔ آدمی اگر غصہ کے وقت بے صبر ہو جائے تو غصہ اس کے لیے نقصان کی چیز بن جاتا ہے۔ لیکن آدمی اگر غصہ کے وقت خود کو کنٹرول کرے تو غصہ اس کے لیے ایک مثبت عمل بن جائے گا۔ غصہ اجتماعی زندگی کا ایک ظاہر ہے۔ آدمی اگر تنہائی کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کو غصہ نہیں آئے گا۔ غصہ اس وقت آتا ہے جب کہ آدمی دوسروں کے درمیان ہو، اور دوسروں کی کوئی بات اس کو پسند نہ آئے۔ اس وقت اس کے اندر غصہ بھڑکتا ہے۔ لیکن غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔ غصہ اس وقت بری چیز بن جاتا ہے، جب کہ آدمی غصہ کے وقت رد عمل کا شکار ہو جائے۔ وہ غصہ کو بینچ کرنے میں ناکام رہے۔ غصہ ایک فطری ظاہر ہے۔ غصہ کسی آدمی کے لیے ایک شاکنگ تجربہ ہوتا ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سے بڑی مقدار میں اینگر انرجی (anger energy) خارج ہوتی ہے۔ غلط یہ ہے کہ آدمی اپنی اینگر انرجی کو بینچ نہ کر سکے۔ لیکن اگر آدمی اپنی اینگر انرجی کو بینچ کر لے تو وہ اس کی فکری طاقت میں اضافہ کا ذریعہ بن جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page