تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 451
By Maulana Wahiduddin Khan
کر احساس غلطی بنا لیا۔ پہلے وہ دوسروں کے خلاف سوچا کرتے تھے، اب وہ اپنی اصلاح آپ کے انداز میں سوچنے لگے۔ بظاہر یہ ایک لفظ کا فرق تھا، لیکن یہ لفظ اتنا زیادہ پر حکمت تھا کہ اس نے ان کی پوری زندگی کو بدل دیا۔ ان کو منفی شخصیت سے نکال کر مثبت شخصیت بنا دیا۔ منفی پہلو میں مثبت پہلو 1947ء سے پہلے ہندوستان میں برٹش راج تھا۔ اُس زمانہ میں برٹش حکمرانوں نے ہندوستان میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا اور پوری طاقت سے انگریزی زبان کو ہندوستان میں رائج کیا۔ یہاں تک کہ انگریزی زبان کے اعتبار سے امریکا اور برطانیہ کے بعد ہندوستان تیسرا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ برٹش حکمرانوں نے اپنے خیال کے مطابق، ہندوستان میں انگریزی زبان کو اس لیے رائج کیا تھا کہ وہ اس ملک پر ہمیشہ کے لیے اپنا غلبہ قائم رکھیں۔ برٹش حکومت نے انگریزی زبان کو صرف اپنے مفاد کے لیے یہاں جاری کیا تھا۔ مگر آج یہی انگریزی زبان ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا سرمایہ بن گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی تمام تر انگریزی زبان پر قائم ہے اور انگریزی زبان میں ہندوستان دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں بہت آگے ہے۔ چین اور روس دونوں بہت بڑے ملک ہیں۔ مگر دونوں ہندوستان سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کو تمہاری انگریزی کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی انگریزی ایکسپورٹ کرو۔ اس مثال سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ کا حریف خواہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے کوئی عمل کرے، مگر عین ممکن ہے کہ مستقبل کے لحاظ سے وہ تمام تر آپ کے فائدے میں ہو۔ حتیٰ کہ حریف اگر آپ کے خلاف کوئی سازشی منصوبہ بنائے تب بھی یہ امکان باقی رہے گا کہ اس کی سازش آپ کے لیے ترقی کا ایک زینہ بن جائے۔ حریف کی بنائی ہوئی دنیا آخر کار آپ کے حصہ میں آجائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader