تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 452
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں ہر منفی واقعے میں مثبت پہلو موجود رہتا ہے۔ اگر آپ اس مثبت پہلو کو دریافت کر سکیں تو آپ کو کسی کے خلاف شکایت کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ مثبت پہلو کی دریافت آپ کو اپنی تعمیر میں اتنا زیادہ مشغول کر دے گی کہ آپ کے پاس دوسروں کے خلاف لکھنے اور بولنے کے لیے وقت ہی نہ رہے۔ مثبت اثر مشہور نحوی عمرو بن عثمان سیبویہ (وفات 180ھ) ایران میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث وفقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ محدث حماد بن سلمہ (وفات 167ھ) کی مجلس میں تھا۔ انھوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہا: لَيْسَ مِنْ أَصْحَابِي إِلَّا مَنْ شِئْتُ لَأَخَذْتُ عَلَيْهِ لَيْسَ أَبَا الدَّرْدَاءِ۔ سیبویہ یہ سن کر بول اٹھا: لَيْسَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا: سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ (عربی گرائمر کے لحاظ سے) استثناء ہے (اس لیے ”ابو“ کے بجائے ”ابا“ ہوگا)۔ سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے ۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا (طبقات النحويين واللغويين، صفحہ 66)۔ وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماء خلیل، یونس اور عیسیٰ بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا۔ اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ عربی نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے ”الکتاب“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علماء کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جاسکی۔ جس شخص کی نحو کمزور تھی، وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا۔ ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ اسے ٹھیس لگتی ہے۔ جب اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader