Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 456

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں ایک راستہ بند ہو جائے، وہاں دوسرا راستہ موجود ہوتا ہے۔ حتی کہ جب سامنے کا راستہ بند ہو، وہاں انسان یہ کر سکتا ہے کہ وہ یوٹرن (U-turn) لے، اور دوسرا راستہ اپنے سفر کے لیے تلاش کر لے۔ میں نے ایک مرتبہ ایک قصہ پڑھا تھا کہ ایک دکان دار کی دکان میں آگ لگ گئی، اس کا تمام سامان جل گیا۔ اس واقعے سے وہ مایوس نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنے کام کی نئی پلاننگ کی۔ اس نے اپنی دکان کو دوبارہ درست کیا۔ اس نے جلے ہوئے سامان کو ردی میں ڈال دیا، اور تمام سامان نیا خرید کر اپنی دکان میں سجایا۔ اس کے بعد اس نے اپنی دکان پر ایک بورڈ لگا دیا، اس میں لکھا تھا: اس دکان میں آپ کو ہر سامان فریش ملے گا۔ اس بورڈ کو دیکھ کر لوگوں کے اندر شوق پیدا ہوا۔ وہ اس دکان میں بڑی تعداد میں آنے لگے ۔ اس دکان کی بکری بہت بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ وہ دکان پہلے سے بھی بہت زیادہ کامیابی کے ساتھ چلنے لگی ۔ اس دنیا میں مسائل بھی ہیں، اور مواقع بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مواقع کو ادویل کرنا سیکھے، نہ کہ مسائل پر احتجاج کرنا۔ مثبت لٹریچر کی ضرورت ایک مدرسہ کے طالب علم نے کراچی بک فیر 2019ء میں سی پی ایس انٹرنیشنل (پاکستان) کے اسٹال پر آ کر اپنا تاثر ان الفاظ میں نقل کیا ہے: چار سال قبل میں عورتوں کے بارے میں عرب کے دور جاہلیت سے بھی بدتر سوچتا تھا۔ میرے بڑے بھائی نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے مطالعہ پر زور دیا۔ اس وقت میری ذہنی حالت بدتر ہو رہی تھی، میں سوچ سوچ کر اتنا پریشان ہو گیا کہ میں نے خودکشی کرنے کا ارادہ کر لیا۔ ایک دن میں بڑے بھائی کی لائبریری میں گیا، کتابیں دیکھتے ہوئے میری نظر مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ” انسان کی منزل“ پر پڑی۔ میں نے اس کتاب کا مطالعہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page