تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 455
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے، لیکن اُن کے مخالف کوئی بات ہوجائے، تو وہ اس کا چرچا خوب کرتے ہیں۔ یہ مزاج انسانی شخصیت کے لیے قاتل ہے۔ ہر انسان کو بہت زیادہ اس مزاج سے بچنا چاہیے۔ انسان کا مزاج یہ ہے کہ اگر سو میں ننانوے مثبت باتیں ہوں، تو وہ اس کی شخصیت کا حصہ نہیں بنیں گی، لیکن اگر ایک منفی بات ہو تو وہی اس کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی۔ پانی کے گلاس میں اگر آپ پتھر کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو وہ صرف ایک ٹکڑا بن کر پانی میں رہے گا، لیکن اگر آپ اس کے اندر رنگ ڈال دیں تو رنگ پورے پانی میں پھیل جائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان جب کسی واقعے سے منفی تاثر لے گا تو وہ تاثر اس کی پوری شخصیت کا حصہ بن جائے گا، لیکن اُس کے ساتھ کوئی مثبت واقعہ پیش آئے تو وہ اس کی شخصیت کا صرف ایک محدود جز بن کر پڑا رہے گا۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ منفی تاثر فوراً انسان کے فعال حافظے کا جز بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت تاثر بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب کوئی منفی تاثر پیش آئے تو فوراً وہ اس کو بھلا دے، ورنہ اس کو منفی شخصیت کی صورت میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ احتجاج کوئی پالیسی نہیں احتجاج (protest) کوئی کام نہیں ہے۔ احتجاج صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے پاس مثبت (positive) معنی میں کرنے کا کوئی کام نہیں ہے۔ وہ صرف دوسروں کے خلاف بولنا جانتا ہے۔ اپنے امکانات کو اوویل کرنے کا آرٹ اس کو نہیں معلوم۔ وہ احتجاج کرنا تو جانتا ہے، لیکن ری پلاننگ (replanning) کا آرٹ اس کو نہیں معلوم۔ خالق نے انسان کو نہایت اعلیٰ صلاحیت دے کر پیدا کیا ہے۔ انسان ہر جنگل میں اپنا راستہ نکال سکتا ہے۔ انسان ہر مشکل میں نئی تدبیر دریافت کر سکتا ہے۔ انسان ہر ناکامی میں کامیابی کا راز دریافت کر سکتا ہے۔ کوئی بندگی انسان کا راستہ روکنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader