تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں (12:40)۔ یہ دونوں الفاظ (رب اور حکم) اللہ کی ذات کی نسبت سے قرآن میں آئے ہیں، اس کا کچھ بھی تعلق سیاسیات یا معاشیات سے نہیں ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انھوں نے مذکورہ الفاظ قرآن سے لیے اور اس کے اندر اپنے خود ساختہ مفہوم کو شامل کر دیا۔ یہ گویا کہ ’رب‘ اور ’حکم‘ کے لفظ کو سیاسی بنانا(politicisation) تھا۔ قرآنی الفاظ میں اس قسم کا خودساختہ مفہوم شامل کر کے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان کا یہ مشن ہے کہ وہ دنیا میں نظامِ ربوبیت یا نظامِ حاکمیت قائم کرے۔ یہ بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اس کی غلطی اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ بداہتہً ہی قابلِ رد ہے۔ جذباتِ شکر کی بیداری حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2357)۔ یعنی، پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہو گیا۔ پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے۔ پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔ مگر عام حالات میں پانی کی اس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔ اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid) پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدار میں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہو گئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader