تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
پانی آدمی کی پیاس کو بجھا کر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔ یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اسی کے ساتھ شکرِ خداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہو جاتا ہے۔ اللہ، انسان کا منعمِ حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندر ان نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہو جاتا ہے۔ وہ غفلت سے باہر آ جاتا ہے ۔ وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہو کر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ روزہ، جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میں رہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا شعوری احساس نہیں ہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو از سرِ نو دریافت کر کے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے ۔ شکر کا احساس اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کر لپ سروس کے طور پر الحمد للہ کہیں تو یہ حیوانی درجے کا شکر ہے۔ کیوں کہ یہ مشاہدہ اور ذائقہ پر مبنی ہے، اور مشاہدہ اور ذائقہ کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔ اعلیٰ درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آ جائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں۔ خدا نے ایک برتر عمل (process) کے ذریعے ایک عظیم واقعہ بر پا کیا۔ وہ تھا غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرنا۔ اس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میں آئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader