منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 459
By Maulana Wahiduddin Khan
منفی سوچ اسلام میں نہیں ایک قوم کے اندر دوسری قوم کے خلاف منفی جذبات اُس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب کہ پہلی قوم اپنی کسی مصیبت کا ذمے دار دوسری قوم کو سمجھ لے۔ مگر اسلام میں اس قسم کی منفی سوچ کی قطعا گنجایش نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے قرآن میں حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ جو بھی مصیبت تمہارے اوپر آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے (42:30)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کوئی مصیبت پیش آنے پر صرف یہ کرنا ہے کہ ذاتی احتساب (self-introspection) کر کے اپنی جانب کی کوتاہی کو معلوم کیا جائے جو کہ اصل وجہ ہے۔ اور پھر اس کو درست کیا جائے۔ اس کے برعکس، اپنی مصیبت کا ذمے دار کسی دوسرے کو قرار دے کر اس کے خلاف نفرت اور انتقام میں مبتلا ہونا، اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ پیغمبر اسلام کی حدیثوں میں بھی یہ حقیقت مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے۔ یعنی، تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہو گے جب تک میری سنت کو پکڑے رہو گے۔ اور جب تم میری سنت سے نکل جاؤ گے تو اللہ تمہارے اوپر ایسے لوگوں کو مسلط کردے گا جو نہ تم سے ڈرے گا، اور نہ تم پر رحم کرے گا، یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آؤ (مسند ابویعلی، حدیث نمبر 5659)۔ قرآن سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دشمن خود مسلمانوں کی اپنی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے باہر، خارجی مسئلے کی حیثیت سے، دشمن کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو، اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کے لیے اصل مسئلہ، سازش کی موجودگی نہیں ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader