منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 460
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ اگر اہل ایمان کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پائی جائے تو وہ پوری طرح دشمنوں کی سازش سے محفوظ رہیں گے۔ انھیں دوسروں کی طرف سے کوئی گزند پہنچنے والا نہیں۔ اس اصول کی عملی مثال بھی قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ ایک مثال غزوہ اُحد کی ہے۔ پیغمبر اسلام کی ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ غزوہ واضح طور پر پیغمبر اسلام کے مخالفین کی زیادتی کی بنا پر پیش آیا۔ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ یہ غزوہ مدینہ کی سرحد پر ہوا۔ یعنی مخالفین اپنے وطن مکہ سے تین سو میل کا فاصلہ طے کر کے جارحانہ طور پر مدینہ آئے اور مسلمانوں کے وطن پر حملہ کیا۔ لیکن قرآن میں جب غزوۂ احد پر تبصرہ کیا گیا تو اس میں مخالفین کے ظلم اور سازش کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ مسلمانوں کی خود اپنی داخلی کوتاہی کے نتیجے میں یہ شدید نقصان انھیں بھگتنا پڑا۔ غزوۂ احد کے بارے میں قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: حَتَّیٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ (3:152)۔ یعنی، جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے میں اپنے درمیان اختلاف کر لیا۔ قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اُحد کی شکست اور نقصان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو قرار نہ دیں۔ بلکہ خود اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھ کر اپنی اصلاح کریں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے ایک اور قانون کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اس قانون کا تعلق مخصوص طور پر اہل کتاب سے ہے۔ اس خدائی قانون کا اطلاق، پیغمبر اسلام کے ظہور سے پہلے، سابق اہل کتاب، یہود پر ہوا اور اب اس خدائی قانون کا تعلق مسلم اُمّت سے ہو گیا ہے جو کہ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد اہل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس خدائی قانون کے تعلق سے یہود کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کا ذکر قرآن میں اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader