Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شخصیت سازی کا عمل

Urdu book, p. 470

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ کنڈیشننگ ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں۔ ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے جو اس کو صحیح طرزِ فکر سے محروم کردیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔ اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ـــ انسان فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے: Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned. ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے ۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان (social animal) ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تاثر قبول کرتا رہتا ہے۔ جس کو کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طور پر کنڈیشننگ کا کیس بن جاتا ہے۔ سنِ شعور کو پہنچنے کے بعد ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ کو سمجھے اور اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرکے دوبارہ اپنے آپ کو حالت فطری کی طرف واپس لے جائے، وہ اپنے آپ کو انسانِ مصنوعی کے بجائے انسانِ فطری بنائے۔ موجودہ زمانے میں علمِ نفسیات میں ایک نظریہ بہت عام ہوگیا ہے جس کو بہیو یرازم (behaviourism) کہا جاتا ہے۔ نفسیات کے اس مدرسہ فکرمیں یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ کنڈیشننگ ہی انسان کی مستقل حالت ہے، انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے کچھ نہیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page