تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 469
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ حقیقت ہے جس کی بابت، صحابی رسول، حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا: الخَيْرُ فِيْمَا وَقَعَ - یعنی ، جو کچھ پیش آئے، اس کو آدمی خدا کی طرف سے سمجھے اور اس پر راضی ہو جائے ۔ اسی حقیقت کو ایک فارسی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ دشمن اگر قوی ہے، تو نگہبان اس سے بھی زیادہ قوی ہے: دشمن اگر قوی است، نگہباں قوی تراست If the enemy is strong, the Saviour is stronger. حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ پیش آتا ہے، وہ براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے ۔ یعنی حالات کا اہتمام خدا کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انسان کا حصہ اُس میں صرف یہ ہے کہ وہ مثبت رسپانس (positive response) دیتا ہے، یا منفی رسپانس (negative response) ۔ وہ یا تو ایک قسم کا رسپانس دے کر کریڈٹ (credit) پاتا ہے، یا دوسرے قسم کا رسپانس دے کر اپنے آپ کو ڈس کریڈٹ (discredit) کر لیتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے بارے میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے صبری سے بچائے اور بہتر انجام کے لیے خدا سے دعا کرتا رہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں صبر بھی ایک عمل ہے اور دعا بھی ایک عمل۔ شخصیت سازی کا عمل روسو فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ 1712 ء میں پیدا ہوا اور 1778 ء میں اس کی وفات ہوئی ۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in Chain.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader