Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شخصیت سازی کا عمل

Urdu book, p. 473

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر منفی آئٹم کو نکالے اور اس کو فکری تصحیح کے عمل سے گزار کر مثبت آئٹم بنائے۔ اور پھر اسی مثبت آئٹم کو اپنی شخصیت میں واپس داخل کرے۔ جس طرح مویشی جگالی (rumination) کر کے اپنے اندر سے غیر ہضم شدہ غذا کو نکالتے ہیں اور پھر اس کو قابلِ ہضم بنا کر اپنے پیٹ میں دوبارہ داخل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کریں۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے دو بڑے حصے ہیں— شعور اور لاشعور۔ انسان کے ساتھ جب کوئی ناخوشگوار تجربہ گزرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کے ذہن کے شعوری خانے میں ایک منفی آئٹم کے طور پر داخل ہوتا ہے۔ یہ منفی آئٹم چند دن تک زندہ شعور کے خانے میں رہتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ اس کے لاشعور کے خانے میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی پہلے ہی دن یا چند دن کے اندر ہر منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے ۔ تا کہ یہ آئٹم جب زندہ شعور سے گذر کر اس کے لاشعور میں یا حافظے کے اسٹور میں پہنچے تو وہ ایک مثبت آئٹم کے طور پر وہاں محفوظ ہو۔ یہی وہ عمل ہے جو انسانی شخصیت کی تعمیر میں اصل فیصلہ کن عامل (factor) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی عمل کے دوران یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی انسان منفی شخصیت کا حامل ہوگا یا مثبت شخصیت کا حامل ۔ جو آدمی اپنے روزمرہ کے تجربات پر تصحیح کا عمل کر کے اس کو مثبت آئٹم میں ڈھالتا رہے، اس کے لاشعور یا حافظے کے اسٹور میں تمام آئٹم مثبت آئٹم کے طور پر جمع ہوں گے۔ ایسے انسان کی شخصیت ایک مثبت شخصیت ہوگی۔ اس کے برعکس، جو انسان تجربے کے پہلے ہی مرحلے میں تصحیح کا یہ عمل جاری نہ کر سکے اس کو پیش آنے والے تمام منفی آئٹم اس کے لاشعور کے خانے میں صرف منفی آئٹم کے طور پر جگہ پائیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی پوری شخصیت ایک منفی شخصیت بن جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page