شخصیت سازی کا عمل
Urdu book, p. 474
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان جو بھی عمل کرتا ہے، خواہ وہ اس کی سوچ ہو یا وہ اس کا قول ہو یا وہ اس کا عمل، سب کچھ اس کے لاشعور کے تحت ہوتا ہے۔ کوئی انسان اپنے شعور کے کم اور اپنے لاشعور کے زیادہ تابع ہوتا ہے۔ جس انسان کا لاشعور منفی آئٹم کا ذخیرہ بن جائے، اس کے تمام اقوال و اعمال منفی نوعیت کے ہوں گے۔ اس کے برعکس، جس انسان کا لاشعور خود تعمیری کے نتیجے میں مثبت آئٹم کا ذخیرہ بنا ہوا ہو، اس کے تمام اقوال و اعمال صحت مند اور مثبت انداز کے حامل ہوں گے۔ حق کی تلاش یا حق کی یافت دونوں ہی مثبت شخصیت کا فعل ہیں۔ یہ دراصل مثبت شخصیت ہے جس کے اندر تلاشِ حق کا اعلیٰ جذبہ جاگتا ہے۔ اور یہ مثبت شخصیت ہی ہے جو اپنی سلامتِ فکر کی بنا پر آخر کار حق کی یافت کے مرحلے تک پہنچتی ہے۔ مثبت شخصیت، منفی شخصیت اسلامی فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ اگر ایک ٹب پاکیزہ پانی ہو، اُس میں گندگی کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے تو ٹب کا پورا پانی گندا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر ایک ٹب گندا پانی ہو اور اس میں ایک قطرہ پاک پانی ڈال دیا جائے تو اُس سے وہ پانی پاک نہیں ہو جائے گا، بلکہ وہ بدستور گندا رہے گا۔ یہ ایک خارجی نوعیت کی مادی مثال ہے۔ یہی معاملہ انسان کی داخلی شخصیت کا ہے۔ ایک شخص کے ذہن میں اگر 99 مثبت آئٹم ہوں اور صرف ایک منفی آئٹم اس کے اندر داخل ہو جائے تو یہی منفی آئٹم غالب آ جائے گا اور آدمی کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ مثبت سوچ کسی درجے میں بھی منفی سوچ کو قبول نہیں کرتی۔ آدمی کی شخصیت یا تو صد فی صد مثبت شخصیت ہوگی، یا وہ سرے سے مثبت شخصیت ہی نہ ہوگی۔ یہ ایک اہم نفسیاتی اصول (psychological principle) ہے جو آدمی اپنے اندر مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اُس کو لازمی طور پر یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader