مسئلہ کا حل
Urdu book, p. 488
By Maulana Wahiduddin Khan
کی طرف سے یہ سب ممکن ہوا کہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ اس ”عسر“ کے دور میں ”یسْر“ کا ایک موقع مجھے ضرور ملا جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرح ہیں: ⃝ غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔ ⃝ یک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کر کے ہی ہم اسلام کا پیغام امن ان تک پہنچا سکتے ہیں۔ ⃝ دینِ سلامتی کو دینِ قتل نہ بنائیں۔ دینِ امن کو دینِ جنگ و جدال نہ بنائیں۔ ⃝ گمراہ کن نعروں سے مسلمانانِ دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔ ⃝ دعوت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا، وغیرہ وغیرہ۔ ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے جن کے جوابات جاننا میرے لیے ضروری ہو گیا۔ امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجود ذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے: 1۔ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا؟ 2۔ قرونِ اول میں جو فتوحات ہوئیں، مثلاً مصر، روم، ایران وغیرہ، ان کو دفاعی جنگ (defensive war) کہنا کیسے ممکن ہے؟ 3۔ ”نہی عن المنکر“ غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیا جائے؟ 4۔ دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کر سکتے ہیں؟ (احمد دانی، کشمیر)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader