Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کیا ہے۔ شکر دراصل ، خدا کی نعمتوں کے اعتراف (acknowledgement) دوسرا نام ہے۔ یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا۔ پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ کسی انعام پر مُنعم کا اعتراف کرنا، ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ لیکن اعتراف کے لیے ہمیشہ کسی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جب آپ کھانے کی کوئی چیز کھاتے ہیں، تو آپ کو فوڈ آئٹم کی صورت میں شکر، یا اعتراف کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس مل جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ چیز کھانے کے لیے عطا کی۔ لیکن ایک شخص جو جدید علم نباتات (Botany) اور جدید علم زراعت (Agriculture) اور جدید علم باغبانی (Horticulture) سے واقف ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ کسی فوڈ آئٹم کی معنویت کو ہزاروں گنا زیادہ اہمیت کے ساتھ دریافت کر سکے۔ اس طرح اس کا احساسِ شکر، عام انسان کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ جب وہ کہے گا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے کھانے کے لیے یہ فوڈ آئٹم دیا، تو وہ ایک عظیم اہتزاز (super thrill) کے جذبے کے تحت، وہ الفاظ بولے گا جس کا تجربہ پہلے کسی انسان کو نہیں ہو سکتا تھا۔ پہلا شخص جس حقیقت کو صرف ذائقہ لسانی کی سطح پر جانے گا، دوسرا شخص اس کو وسیع تر علم سائنس کی سطح پر دریافت کرے گا۔ پہلے شخص کا اعتراف اگر ایک سادہ اعتراف ہوگا، تو دوسرے شخص کا اعتراف ایک ہمالیائی اعتراف بن جائے گا۔ شکرِ قلیل، شکرِ کثیر ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ، لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18449)۔ یعنی، جو شخص کم پر شکر نہیں کرے گا، وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرے گا۔ اس حدیث رسول میں فطرت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page