Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر آپ یہ سوچیں کہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی (energy) کا ذریعہ نہیں ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اُس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظام ہضم (digestive system) رکھ دیا۔ یہ نظام ہضم ایک خودکار نظام ہے۔ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظام ہضم ان غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طور پر زندہ خلیات (living cells) میں تبدیل کر دیتا ہے، پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا گہرا احساس پیدا ہوگا، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ خود کو عاجز پائیں گے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا۔ اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے تو آپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبہ شکر درکار ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہے: وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (13: 34)۔ یعنی، اور میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔ انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا شکر ہے۔ صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اعلیٰ شکر قرآن کے مطابق، شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے (7:17)۔ ہدایت اور گم رہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔ اس کے مقابلے میں، گم رہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہو جائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے، لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکر خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اسی لیے حدیث میں اس فتنے کو دجّال یا دجّالیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page