Urdu book · تعمیرِ شخصیت

مسئلہ کا حل

Urdu book, p. 490

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیبیہ پر اتفاق، صبر و ضبط کا فارمولا ہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لیے لازم ہیں۔ اس دور انسانی میں، جس میں ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کو اس طرح پیش کر رہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں، صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ صبر و ضبط اپنی جگہ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لیے کس راستے کا انتخاب کیا جائے؟ (محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالیگاؤں) جواب ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھی ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہ نامہ الرساله (اردو) اور اسپرت آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔ اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردّ عمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ رد عمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخر کار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence) کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page