مسئلہ کا حل
Urdu book, p. 491
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال یہاں ہمارے ساتھی اس بات سے منفی (negative) ہو رہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں، لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا حل کیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا جائے؟ (طارق بدر، پاکستان) جواب جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں ، اُن کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے۔ انبیاء وہ لوگ ہیں، جو دعوت کے معیاری ماڈل تھے۔ انہوں نے جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی ردِعمل کا اظہار کیا ۔ چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يَحْسَرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (36:30) ۔ یعنی، افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی اُن کے پاس آیا، وہ اُس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی ردِعمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں ، اُن کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں ۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول ــ ری پلاننگ ہے۔ ایک دور کا طریقہ مؤثر نہیں ہوا، تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا ، اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے اُن کی دعوت کو قبول کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader