Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیر شخصیت

Urdu book, p. 494

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیرِ شخصیت کاراز ہر انسان کامیابی چاہتا ہے، مگر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کامیابی کا حصول درست طریقے سے ہونا چاہیے، نہ کہ غلط طریقے سے۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالاً طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (168:2)۔ یعنی، اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور شیطان کی پیروی مت کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ رزق کے معاملے میں حلال کا طریقہ اختیار کرے۔ یہاں یہ الفاظ محدود طور پر صرف کھانے پینے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ پوری زندگی کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے لیے کامیابی حاصل کرے، لیکن انسان کو طریقہ (method) کے معاملے میں آزادی نہیں ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے صرف حلال اور طیب طریقے کو اختیار کرے۔ اللہ کا حلال اور طیب طریقہ ہے، صبر اور شکر کا طریقہ، جس میں منفی سوچ نہ ہو، اشتعال انگیزی نہ ہو، دوسروں کے ساتھ رواداری کا معاملہ کیا جائے۔ اس کے برعکس، وہ ایسے طریقے کو اختیار نہ کرے جو اللہ کے قائم کردہ حدود کے مطابق غیر حلال اور غیر طیب حیثیت رکھتا ہو۔ یعنی بے صبری کا طریقہ۔ مثلاً دوسروں پر ظلم کر کے کامیابی حاصل کرنا، استحصال (exploitation) کا طریقہ اختیار کر کے اپنے کو کامیاب بنانا، جو چیز دوسرے کا حق ہو، اس کو غلط طریقہ اختیار کر کے اپنا بنانا، وغیرہ۔ حلال طریقے کا مطلب کوئی پر اسرار طریقہ نہیں۔ حلال طریقے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کو سمجھے، اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے زندگی گزارے۔ جو شخص یا قوم خدا کی اسکیم آف تھنگس سے مطابقت کرے گا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page