Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر سب سے

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طور پر دریافت کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا ہوا ہو۔ اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال میں اس کا سینہ شکر خداوندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔ مگر یہ کوئی آسان بات نہیں۔ اپنے آپ کو شکر کے جذبہ سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کا شعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو۔ وہ اس کا مسلسل اہتمام کرے ۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جو اس کے جذبۂ شکر کو مجروح کرنے والا ہو۔ وہ سب کچھ برداشت کرلے مگر وہ اپنے جذبۂ شکر کا انحطاط (erosion) کبھی برداشت نہ کرے ۔ موجودہ دنیا میں فطری طور پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نابرابری قائم رہتی ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مادی اعتبار سے کوئی اس سے کم ہے اور کوئی اس سے زیادہ ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس سے زیادہ ہے تو اس کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوگا اور اس کا جذبۂ شکر دب کر رہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کو ایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ (comparison) اس سے کرے جو مادی اعتبار سے بظاہر اس سے زیادہ ہے۔ اس کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ ان لوگوں سے کرے جو مادی اعتبار سے اس سے کم ہیں۔ اس طرح اس کا جذبۂ شکر زندہ رہے گا۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہو سکے گا۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تمام لوگ مادی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ کوئی زیادہ ہوتا ہے اور کوئی کم، کوئی پیچھے ہوتا ہے اور کوئی آگے ، کوئی طاقت ور ہوتا ہے اور کوئی کمزور۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے، مگر وہ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page