Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

کو زندہ رکھے ۔ وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو ، پھر بھی اس کے شکر کے جذبہ میں کوئی کمی نہ آئے ۔ وہ بے اعترافی کی صورتِ حال سے گزرے ، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے ۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچار ہو ، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرزِ فکر پر قائم رکھے ۔ شکر وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے ۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے سینہ کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے ، حتّیٰ کہ انتہائی غیر موافق صورت حال میں بھی ۔ محرک شکر تقریباً تیرہ بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا ۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی ۔ پھر گیس کے ذریعے پانی بنا ۔ پانی کا فارمولا H2O ہے ، یعنی زمین میں ایسے مالیکیول (molecule) رکھ دیے گئے ، جس میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم ہوتے تھے ، اور آکسیجن کا ایک ایٹم ۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا ۔ یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہو گیا ۔ ابتدا میں نیچر نے اس پانی میں حفاظتی مادہ (preservative) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا ۔ یہ نمک آمیز پانی براہِ راست طور پر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہ تھا ۔ پھر زمین کے اوپر سورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا ۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا ، اور پانی کا وزن کم ۔ چنانچہ جب سمندر کی سطح پر سورج کی حرارت پہنچی تو سمندر کا پانی فطری قانون کے تحت ازالۂ نمک (desalination) کے پر اسس سے گزرا ، یعنی پانی بھاپ بن کر نمک سے الگ ہو گیا ۔ نمک سمندر میں رہ گیا ، اور پانی بھاپ بن کر فضا میں بلند ہوا ، وہاں وہ بادل بنا اور آخرکار وہ پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برسا ۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا ، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہو گیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page