Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اضافۂ ایمان

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

اللهِ، فَلْيَقُلْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 6224)۔ یعنی، جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے: اللہ کا شکر ہے۔ اُس وقت اس کا ساتھی یہ کہے اللہ کی رحمت ہو تم پر۔ اس کے بعد چھینکنے والا کہے: اللہ تم کو ہدایت دے اور تمھارے حالات کو درست کردے۔ چھینک آنے پر الحمد للہ کہنا محض کوئی رسمی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چھینک آنا شکر کا ایک آئٹم ہے۔ یہ بات ایک تازہ تحقیق سے علمی طور پر ثابت ہوئی ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھینک کوئی بری چیز نہیں، وہ فطرت کا ایک عمل ہے۔ چھینک سے جسم میں تازگی آتی ہے: Sneezing revives your body: A sneeze is your body's way of rebooting naturally and patients with disorders of the nose such as sinusitis sneeze more often as they can't reboot easily, a new study said. Researchers from the University of Pennsylvania found that our noses require "reboot" by the pressure force of a sneeze. (The Times of India, New Delhi, August 2, 2012, p. 15) اس سے معلوم ہوا کہ چھینک آنا کوئی سادہ بات نہیں، چھینک آنا بھی شکر کا ایک آئٹم ہے۔ ہر چھینک پورے جسم کو تازگی عطا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ چھینک اللہ کی نعمتوں کی ایک یاددہانی ہے۔ چھینک کے ذریعے ایک انسان اللہ کی ایک نعمت کو یاد کر کے جب اُس پر شکر ادا کرتا ہے تو اُس وقت اس کا ذہن بیدار ہو جاتا ہے۔ اس ذہنی بیداری کی بنا پر انسان کو شکر کے دوسرے آئٹم بھی یاد آنے لگتے ہیں۔ شکر کے ایک آئٹم پر شکر کر کے آدمی شکر کے دوسرے آئٹم پر بھی شکر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page