Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اضافۂ ایمان

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کی نفسیات میں جینا مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (1:1)۔ یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔ ”ساری حمد اللہ کے لیے ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے۔ قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے۔ وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے۔ وہ واقعات کی ایسی مثبت تو جیہ (positive explanation) تلاش کرے، جو اس کو ہر حال میں شکر کرنے والا انسان بنادے، وہ ہر دن اس احساس سے بھرارہے کہ کائنات کا خالق ایک نہایت مہربان خالق ہے، وہ ہر وقت خالق کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے شکر و اعتراف کا رسپانس (response) دیتا رہے۔ قرآن کی یہ آیت مومن کی حقیقی تصویر کو بتا رہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو الحمدللہ کی نفسیات میں جیے۔ اس کے برعکس، جو انسان عملاً لا حَمْدَ لله کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ سچا مومن نہیں۔ وہ زبان سے تو الحمد للہ کہتا ہے، لیکن اس کا دل شکایتی مزاج کی بنا پر عملاً یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ لا حَمْدَ لله، یعنی اللہ کے لیے کوئی حمد نہیں۔ یہ نفسیات منافقت کی نفسیات ہے، نہ کہ ایمان کی نفسیات۔ اس معاملہ کا تعلق حالات کی تو جیہ سے ہے۔ جو آدمی حالات کی مثبت تو جیہ کرے، وہ الحمد للہ کی نفسیات میں جیے گا، اور جو آدمی حالات کی مثبت تو جیہ نہ کر سکے، وہ لا حَمْدَ لله کی نفسیات میں جینے والا انسان بن جائے گا۔ اَلْحَمْدُ لله شکر کا کلمہ ہے اور لا حَمْدَ لله ناشکری کا کلمہ۔ گویا کہ الحمد للہ کہنے سے پہلے ایک اور چیز مطلوب ہے، اور وہ ہے الحمد للہ کی شعوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page