Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

دین میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے۔ اس کے صبح و شام شکر کی نفسیات میں بسر ہوتے ہوں۔ لیکن ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں اپنے شکر کی حفاظت کرے۔ شکر کی حفاظت کرنے سے شکر باقی رہے گا، اور حفاظت نہ کرنے سے شکر کا احساس آدمی کے اندر سے رخصت ہو جائے گا۔ ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے، جب کہ آدمی ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے۔ شکر یا سرکشی ایک اچھی چیز آپ کو ملتی ہے۔ اس کو اگر آپ اپنی محنت اور قابلیت کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کے اندر سرکشی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اور اگر آپ اس کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھیں تو آپ کے اندر شکر کا جذبہ جاگ اٹھے گا۔ پہلی کیفیت کا نام گمراہی ہے اور دوسری کیفیت کا نام ہدایت یابی۔ موجودہ دنیا کو امتحان (test) کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ دنیا کے تمام واقعات بلاشبہ اللہ کی مرضی سے اور اس کی پلاننگ کے تحت سے ہو رہے ہیں۔ مگر تمام واقعات پر اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اسباب کے ظاہری پردہ کو ہٹا کر اصل واقعہ کو دیکھے اور اس پر ایمان لائے۔ آپ کے اندر ایک چیز کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ آپ اس کے لیے کوشش شروع کرتے ہیں۔ آپ کی کوشش مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ کہیں آپ اپنا ذہن استعمال کرتے ہیں کہیں اپنی عملی طاقت لگاتے ہیں اور کہیں اپنا اثاثہ خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح بظاہر اسباب وعلل کے راستہ سے گزرتی ہوئی آپ کی کوشش اپنے انجام تک پہنچتی ہے۔ آپ اپنے مقصود کو پا لیتے ہیں۔ اب اگر آپ کو صرف ظاہر میں نگاہ حاصل ہے تو آپ اپنی کامیابی کو اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھیں گے۔ لیکن اگر آپ کو وہ نگاہ حاصل ہو جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھ سکے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page