تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت۔ جو آدمی الحمد للہ کہنے سے پہلے اس کی شعوری معرفت حاصل کر چکا ہو، وہی درست طور پر الحمد للہ کہے گا، اور جو آدمی اس شعوری معرفت سے خالی ہو، اس کی زندگی میں الحمد للہ ایک حقیقت کے طور پر شامل نہیں ہو سکتا۔ شکر اور ناشکری پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غزوہ پیش آیا جس کو غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں کافی بھیڑ بکری غنیمت کی صورت میں حاصل ہوئیں ۔ رسول اللہ نے غنیمت کا سامان مہاجرین میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا (وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا ) ۔ یہ دیکھ کر انصار کے کچھ افراد کو شکایت پیدا ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے انصار کے لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے انصار ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکری لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ (أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4330۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ دوسروں کو اگر میں نے بھیڑ بکری دی ہے تو تم کو تو میں نے خود اپنے آپ کو دے دیا ہے، یعنی اللہ کے رسول کو۔ یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ وہ اپنے ملے ہوئے کو نہیں دیکھ پاتا اور دوسرے کو جو کچھ ملے وہ اس کو بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ملی ہوئی چیز بظاہر زیادہ ہوتی ہے، اور نہ ملی ہوئی چیز بظاہر کم۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کا مزاج بے حد خطر ناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے گا، وہ ناشکری میں جینے لگے گا۔ اور یہ نقصان بلاشبہ تمام نقصانات سے زیادہ ہے۔ جو چیز آدمی کے اندر ناشکری پیدا کرے اس کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader