Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے پر شکر کا جذبہ آدمی کے اندر حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ نہ ملے ہوئے پر شکایت کا ذہن آدمی کو جھنجھلاہٹ اور مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ نفس کے خلاف جہاد ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: قَدِمْتُمْ مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ قَالُوا: وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ ( تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 7297 )۔ یعنی، تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، جہاد اکبر کیا ہے؟ آپ نے کہا کہ بندہ کا اپنے نفس سے جہاد کرنا۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہاد کی طرف واپس آئے ہیں: We have come back from temporary jihad to permanent jihad. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جہاد سے مراد دفاعی جہاد ( defensive jihad ) ہے جو کبھی کبھی پیش آتا ہے، اور مستقل جہاد سے مراد اسپرپچول جہاد ( spiritual jihad ) ہے جو ہر آدمی کی زندگی میں مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔ اس بات کو مالک بن دینار تابعی ( وفات 130 ھ ) کے حوالے سے اس طرح بیان کیا گیا ہے: جَاهِدُوا أَهْوَاءَكُمْ كَمَا تُجَاهِدُونَ أَعْدَاءَكُمْ (الكامل فی اللغۃ والآدب للمبرد، جلد 2، صفحہ 128)۔ یعنی، اپنی خواہشات سے جہاد کرو، جس طرح تم اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو۔ دشمن کے خلاف جہاد انتہائی وقتی چیز ہے، جو اس وقت پیش آتا ہے جب کہ کسی نے باقاعدہ طور پر ریاست کے اوپر حملہ کر دیا ہو۔ یہ دفاعی جہاد ہے، اور اس میں صرف کچھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page