نفس کے خلاف جہاد
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
تربیت یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں، نہ کہ ساری مسلم کمیونٹی۔ اس کے برعکس، اپنے نفس کے خلاف جہاد ایک انفرادی نوعیت کی چیز ہے اور وہ ہر مومن کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں ہر عمل کو کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ پیش آتا ہے۔ اپنے نفس سے کامیاب مقابلے کے بغیر کوئی آدمی جہادِ نفس کے کام کو انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر یہ ایک ثواب کا کام ہے کہ آپ جب کسی شخص سے ملیں تو کہیں ’السلام علیکم‘، (تمھارے اوپر سلامتی ہو)۔ یہ کلمہ اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے کہنے پر حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں جب آدمی لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو بار بار اُس کو دوسروں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ اِس بنا پر ہر آدمی کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کے جذبات موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حقیقی معنوں میں ’السلام علیکم‘ صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جو اس سے پہلے دل کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرے اور اس کے بجائے اپنے دل کو لوگوں کے لیے خیر خواہی کے جذبات سے بھر دے۔ غور کیجیے تو یہ کام اتنا مشکل ہے کہ اس کے لیے وہی زبردست کوشش کرنی پڑے گی جس کو جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: الْحَمْدُ للہِ تَمْلأُ الْمِیزَان (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14657)۔ یعنی، الحمد للہ کا کلمہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ غور کیجیے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا الحمد للہ کہنے کے لیے بہت بڑا ذہنی عمل درکار ہے۔ الحمد للہ کہنا، خدا کی نعمتوں پر شکر کا اظہار کرنا ہے۔ خدا کی یہ نعمتیں آدمی کو مسلسل طور پر لا تعداد صورتوں میں ملتی رہتی ہیں۔ یہ نعمتیں ہر آدمی کو اپنے آپ ملتی ہیں۔ چنانچہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے اور عادی ہونے کی بنا پر شعوری طور پر ان کو بطور نعمت محسوس نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں الحمد للہ کہنے کے لیے ایک فکری جہاد کرنا پڑتا ہے۔ اُس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader