نفس کے خلاف جہاد
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
تفکیری قوتوں کو عمل میں لاکر غیر شعور کو اپنے شعور میں لائے، اپنے جذبات کی نئی رُخ بندی کرے، وہ اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے مجاہد بن جائے۔ اس کے بعد ہی اس کی زبان سے وہ کلمۂ حمد نکلتا ہے جو میزان کو بھر دینے والا کلمہ ہے۔ آدمی کے اندر طرح طرح کی خواہشیں ہیں — حرص، علو پسندی، دوسرے کو حقیر سمجھنا، بے صبری، غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ آدمی ہر وقت ان منفی جذبات کے تابع رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کچھ چیزوں کو اپنا محبوب بنالیتا ہے۔ مثلاً دولت، شہرت اور اولاد، وغیرہ۔ آدمی کی یہ بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کو بھر پور طور پر حاصل ہوجائیں۔ نفرت اور محبت کے یہ مختلف جذبات، آدمی کے اوپر ہر وقت چھائے رہتے ہیں، وہ جو کچھ سوچتا ہے، اُنھیں جذبات سے مغلوب ہو کر سوچتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اُنھیں جذبات کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بلاشبہ ایک جہادی عمل ہے کہ آدمی خدا کو مسلسل طور پر اپنا مرکزِ توجہ بنائے، وہ صراطِ مستقیم سے اپنے آپ کو ہٹنے نہ دے — یہی وہ پر مشقت عمل ہے جس کو حدیث میں جہادِ نفس کہا گیا ہے۔ زوجین کے درمیان کامل مطابقت ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کے بعد ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں تو یہ اجتماع ساری کائنات کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ ہوتا ہے۔ وسیع کائنات میں اُن گنت چیزیں ہیں۔ یہاں کی اکثر چیزیں جوڑے (pair) کی صورت میں ہیں، مگر کسی بھی دو چیز کے درمیان وہ کامل مطابقت (complete compatibility) نہیں جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جب ایک عورت اور ایک مرد جیون ساتھی بن کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں شعوری منصوبے کے تحت ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے تھے۔ انسانی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے کسی عورت یا مرد کو کم تر پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader