Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر اور تقویٰ

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر اور تقویٰ روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح اس کا بھی ایک ظاہری فارم ہے، اور دوسرا اس کی روح یا حقیقت ہے۔ قرآن کے مطابق روزہ کی حقیقت شکر (2:185) اور تقویٰ (2:183) ہے۔ یعنی اپنی عبادت میں تقویٰ کی اسپرٹ بڑھانا، اپنی روحانیت میں اضافہ کر کے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سیری کا تجربہ کر کے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کر کے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کو روک کر داخلی سفر کی طرف رواں دواں ہونا، ایک مہینہ کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا، وغیرہ۔ یہی روزہ کا مقصد ہے اور یہی روزہ کی مقبولیت کا اصل معیار بھی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ (16:18)۔ یعنی، اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کو گن نہ سکو گے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے اتنی زیادہ نعمتیں عطا کی ہیں، جن کی کوئی گنتی نہیں۔ مثلاً سورج کی روشنی، آکسیجن، سوائل (soil) سے غذا (food) کا نکلنا، بارش کا برسنا، وغیرہ۔ یہ سب وہ عطیات (نعمتیں) ہیں، جو رات دن انسان کو خود بخود ملتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ نعمتیں چونکہ یک طرفہ طور (unilateral) پر سپلائی کی جارہی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اس کو فار گرانٹڈ (for granted) لے لیتا ہے، اور جو اعتراف (acknowledgement) مطلوب ہے، اس کو وہ کر نہیں پاتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ انسان لپ سروس کے طور پر الحمد للہ، وغیرہ زبان سے ادا کر دیتا ہے۔ گہرے سنس میں انسان ان نعمتوں کا اعتراف نہیں کر پاتا۔ روزہ ایک اعتبار سے یاد دہانی ہے کہ انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page