Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

جس چیز کو فار گرانٹڈ لیے ہوئے ہے، اس کو وہ خالق کے عطیے کے طور پر ڈسکس کرے۔ حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ روزہ رکھ کر جب شام کو افطار کرتے، تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تھے: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2357)۔ یعنی، پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور اجر ثابت ہو گیا ان شاء اللہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نعمتوں کو evaluate کرنے کا تخلیقی (creative) طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی کے اندر انعامات الہی کے احساس کا طوفان برپا ہو جائے، روزہ رکھ کر آدمی کے اندر وہ زندہ احساس پیدا ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ حمد دنیا، حمد آخرت قرآن کی ایک آیت یہ ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:2)۔ یعنی، ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ آیت دنیا کی زندگی میں اہلِ ایمان کے روز و شب کا حال بتاتی ہے ۔ اہلِ جنت جب آخرت میں پہنچیں گے اور جنت میں داخل کر دئے جائیں گے تو وہاں ان کا مشغلہ کیا ہوگا، اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (10:10)۔ یعنی، وہاں ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ اہل جنت کا ایک اور قول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی، شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ ان آیتوں پر غور کیجیے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں گے ۔ اور پھر آخرت میں ان کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page