Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ معرفت خداوندی میں زندگی گزارے۔ وہ اپنی زندگی کے لمحات اس طرح گزارے کہ وہ مسلسل طور پر اللہ کی نشانیوں کو دریافت کر رہا ہو۔ آلاء اللہ (wonders of God) بلا شبہ کائنات کی سب سے بڑی چیزیں ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں آلاء اللہ میں جئیے۔ اور آخرت میں وہ زیادہ اعلیٰ صورت میں آلاء اللہ اور حمد الہی میں جینے کا مرتبہ پائے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: أَلَا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ لذيذ لمحہ (joyous moment) وہ ہے، جب کہ وہ اپنے رب کی قربت حاصل کرے، جب کہ وہ کائنات میں تخلیق کی معنویت کو دریافت کرے، جب کہ اس کا اعلیٰ تصور اس کو فرشتوں کا ہم نشین بنادے، جب کہ وہ اعلیٰ معرفت کا شعوری تجربہ حاصل کرے، جب کہ وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کی معرفت حاصل کرلے۔ یہی انسان کی حقیقی زندگی ہے۔ یہ زندگی ایک سچے انسان کو دنیا میں ابتدائی طور پر حاصل ہوتی ہے، اور آخرت کی جنت میں یہی زندگی اس کو اپنی اعلیٰ صورت میں حاصل ہوگی۔ گویا کہ سچا انسان وہ ہے جو اسی دنیا میں اللہ رب العالمین کے پڑوس میں جینے لگے، یہی وہ زندگی ہے، جو جنت میں اس کو زیادہ اعلیٰ درجے میں حاصل ہوگی۔ حمد خداوندی بسم اللہ کے بعد قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:2)۔ یعنی، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو جو نعمتیں (blessings) دی ہیں، ان کے جواب میں انسان سے کیا رسپانس مطلوب ہے۔ یہ حمد کا رسپانس ہے۔ حمد کا مطلب شکر اور تعریف کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page