حمدِ دنیا، حمدِ آخرت
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی زندگی ، حمد رب کی زندگی ہوگی، اور آخرت میں بھی ان کے صبح وشام رب العالمین کی حمد میں گزریں گے۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں انھوں نے حمد رب کی زندگی دارا الکبد (البلد ، 90:4) میں گزاری ہوگی ، آخرت میں ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حزن سے خالی دنیا (الفاطر، 35:34) میں اعلیٰ معیاری درجے میں حمد رب کی توفیق پائیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی قیمت کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ذہنی طور پر اتنا ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ حزن اور کبد کے حالات میں بھی اعلیٰ معرفت کی سطح پر زندگی گزارے۔ گویا کہ انسان سے جو چیز اصلاً مطلوب ہے، وہ حمد رب ہے۔ دنیا میں بھی حمد، آخرت میں بھی حمد ۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی رحمت (blessing) کا نتیجہ ہے۔ پھر پیدا ہونے کے بعد جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہ پوری کی پوری رحمتوں کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد طرز زندگی صرف یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے، وہ ہر موقع (occasion) پر اللہ کی بے پایاں رحمت کا اعتراف کرے۔ اس کی شعوری بیداری اس درجہ تک پہنچ جائے کہ ہر چیز سے اس کو حمد خداوندی کا رزق ملنے لگے۔ یہ حالت ایک اعتبار سے دنیا میں اللہ رب العالمین کا اعتراف ہے۔ یہ اس فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے جو تخلیق کے اعتبار سے انسان کے اندر ہونا چاہیے۔ یہی انسان وہ ہے جس نے دنیا میں سچا انسان بن کر زندگی گزاری ۔ دنیا میں اس طرح زندگی گزارنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہی سچا انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت کی جنت میں وہ درجہ ملے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ بیان کیا گیا ہے: فِي مَقْعَدٍ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (54:55)۔ یعنی، وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں، قدرت والے بادشاہ کے پاس ۔ دنیا میں جو لوگ سچائی کی زندگی گزاریں ، ان کو اس کا یہ انعام ملے گا کہ وہ آخرت میں سچائی کی سیٹ (seat of truth) پر بیٹھنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader