حمد اور تضرع
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
جُوعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ، وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ (مسند احمد، حدیث نمبر22190؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2347)۔ یعنی، حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میرے سامنے یہ پیش کش کی کہ مکہ کی وادی کو تمہارے لیے سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب! نہیں، مجھے یہ پسند ہے کہ میں ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پس جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری طرف عاجزی کروں اور تجھ کو یاد کروں۔ اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے دو چیزیں مطلوب ہیں— ایک یہ کہ وہ اللہ کی قدرت کا اعتراف کر کے اس کے آگے اپنے عجز کا اظہار کریں۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو محسوس کر کے اس پر شکر کرنے والے بن جائیں۔ یہ دونوں باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن وحدیث میں بتائی گئی ہیں۔ مگر اس کا سب سے بڑا عملی تجربہ وہ ہے جو بھوک اور سیری کی صورت میں انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جب آدمی کو بھوک لگتی ہے، جب اس کو پیاس ستاتی ہے، اس وقت اس کو آخری حد تک اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور اور محتاج ہے۔ اسی طرح جب بھوک پیاس کی شدت میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو کھانا اور پانی ملتا ہے تو اس وقت اس کو آخری طور پر محسوس ہوتا ہے کہ کھانا اور پانی کتنی زیادہ قیمتی چیزیں ہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو بھوک کا تجربہ بھی ہونا چاہیے اور سیری کا بھی۔ اس پر یہ کیفیت بھی گزرنی چاہیے کہ اس کا حلق پیاس کی وجہ سے سوکھ گیا ہو، اور اسی کے ساتھ یہ کیفیت بھی کہ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے بعد اس کا وہ حال ہو گیا جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ (شعب الایمان لبیہقی، حدیث نمبر 3902)۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہوتیں۔ روزہ اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader