حمد اور تضرع
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
قسم کے حالات پیدا کرنے کی ایک سالانہ تدبیر ہے۔ روزہ کے ذریعہ آدمی کو بھوک اور سیری دونوں کا تجربہ کرایا جاتا ہے، تاکہ وہ خدا کے آگے عاجزی کرنے والا بھی بنے اور اسی کے ساتھ اس کا شکر کرنے والا بھی۔ قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بنو... رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا... پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے... اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی، اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو (185-2:183)۔ ان آیات میں روزہ کے دو خاص فائدے بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ روزہ آدمی کے اندر تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اس سے آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرنے والا بنے۔ قرآن میں جس دینی کیفیت کے لیے تقویٰ اور شکر کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسی کو حدیث میں تضرع اور شکر کہا گیا ہے۔ یہی دونوں كيفيتیں عبدیت کی اصل ہیں۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس آدمی کے اندر تضرع اور تقویٰ کے احساسات ابھارتا ہے۔ اور اللہ کے عطیات کا احساس اس کے اندر حمد اور شکر کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اگر آدمی کا شعور بیدار ہو تو یہ دونوں كيفيتیں ہر روز ہر تجربہ سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی رہیں گی۔ وہ ہر واقعہ سے یہ دونوں ربانی غذائیں حاصل کرتا رہے گا۔ پھر انھیں دونوں كيفيات کو مزید شدت اور عمومیت کے ساتھ حاصل کرنے کے لیے رمضان کے مہینہ کا روزہ مقرر کیا گیا ہے۔ رمضان کا روزہ گویا عمومی تربیت کا خصوصی کورس ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader