بیسویں صدی
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ وہ مکمل طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ جس مذہب کو چاہے مانے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے، صرف اس ایک شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کا کوئی فعل نہ کرے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ پرامن مذہبی زندگی یا پرامن دعوت و تبلیغ کے راستہ میں آج کسی بھی قسم کی کوئی خارجی رکاوٹ موجود نہیں۔ قرآن میں اصحاب رسول کو یہ دعا تلقین کی گئی تھی کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا:رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ یہ گویا دعا کی صورت میں اس آنے والے دور کا پیشگی اعلان تھا جو پیغمبر آخر الزماں کی امت کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا۔ خاتمہ عصر کا یہ دور اب دنیا میں پوری طرح آچکا ہے۔ ایسی حالت میں آج کے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ نئے دور آزادی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کا بھر پور استقبال کریں، نہ کہ خود ساختہ نظریات کی بنا پر نئے دور کے سیاسی حکمرانوں سے غیر ضروری ٹکراؤ شروع کر دیں اور پھر صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمر کے اس پیشگی انتباہ کا مصداق ہیں کہ اللہ کی توفیق سے اصحاب رسول نے سیاسی فتنہ کا خاتمہ کر دیا تھا، مگر تم لوگوں نے اپنی نادان کارروائیوں کے ذریعہ سیاسی فتنہ کو دوبارہ اپنے خلاف زندہ کر لیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4515)۔ اس سلسلہ میں دوسری اہم چیز جدید وسائل کا ظہور ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد ایسے نئے وسائل کا ظہور میں آئے ہیں جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے اتنا زیادہ دور رس ہیں کہ اب سیاسی اقتدار عملاً ثانوی درجہ کی چیز بن گیا ہے۔ آج وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی امید قدیم زمانہ میں صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ کی جاسکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان وسائل کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ استعمال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader