Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

پر جینے لگے ۔ وہ ایک دانش مند انسان (man of wisdom) بن جائے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے کہد (مسائل) پر ری ایکٹ (react) کرنے کے بجائے ان کے بارے میں آرٹ آف مینجمنٹ سیکھے ۔ یہی وہ واحد قیمت ہے جس کو ادا کر کے انسان اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے خالق کی مرضی کے مطابق رہے ، اور آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔ بیسویں صدی 20 ویں صدی انسانی تاریخ کی وہ صدی ہے، جب کہ قدیم روایتی دور کا خاتمہ اپنی انتہا کو پہنچا۔ بیسویں صدی میں پہنچ کر دنیا کے حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ اس صدی میں ایسے واقعات پیش آئے ، جس نے دنیا کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔ نئے تاریخی عمل کے نتیجہ میں اب دنیا میں نہ شخصی حکمرانی ہے اور نہ جابرانہ سیاسی نظام۔ 1991ء میں سوویت ایمپائر کا ٹوٹنا انسانی تاریخ میں نظام جبر کے خاتمہ کی آخری تکمیل تھی۔ اب اس قسم کا سیاسی جبر بھی دنیا میں واپس آنے والا نہیں۔ آج کے توحید پرستوں کو نہ اس کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کریں اور نہ یہ ضرورت ہے کہ وہ وقت کے حکمرانوں سے مسلح ٹکراؤ کریں، تاکہ انہیں ختم کر کے اپنے لیے آزادانہ دینی زندگی کے مواقع حاصل کر سکیں۔ کیوں کہ یہ چیزیں تواب تاریخی عمل کے نتیجہ میں اپنے آپ انہیں حاصل ہو چکی ہیں۔ اس انقلابی تبدیلی کے دو بڑے پہلو ہیں— (1) مکمل مذہبی آزادی (2) جدید وسائل۔ موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کا پہلا زمانہ ہے جب کہ ایک طرف فکری انقلابات اور دوسری طرف اقوام متحدہ کے قیام کے نتیجہ میں ہر فرد اور ہر گروہ کا ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page