Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

احمد اور الترمذی نے حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 12327 ؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2869)۔ یعنی، میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا اوّل بہتر ہو گا یا اُس کا آخر۔ بارش جب ہوتی ہے تو اُس کے ابتدائی دور میں بھی انسان کو بہت سی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مگر بعد کے مرحلہ میں جب بارش سے سیراب ہو کر زمین سبزہ اور درخت اگاتی ہے تو اس دوسرے مرحلہ میں اُس کی برکتیں اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اب فصل اور پھول اور پھل، وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے لیے بے پناہ خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔ یہی معاملہ دین محمدی کا ہے۔ دین محمدی کا ظہور ہوا تو اُس وقت دنیا اپنے روایتی دور میں تھی۔ اُس دور میں بھی اس دین کے پیروؤں کو اُس سے بے پایاں فائدے حاصل ہوئے۔ بعد کے زمانہ میں جب کہ دنیا سائنسی دور میں داخل ہوگی تو اُس وقت بھی اس دین کے پیروؤں کو نئے امکانات کے اعتبار سے عظیم فائدے حاصل ہوں گے۔ دین کی علمی و فکری عظمت از سرِ نوئی شان کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہو جائے گی۔ اس حدیث میں امت کے دورِ آخر میں جس عظیم خیر کی پیشین گوئی کی گئی ہے اُس سے مراد غالباً وہی سائنسی حقائقیں ہیں جنہوں نے نئے وسیع تر انداز میں اس امکان کا دروازہ کھول دیا کہ انسان اُن کو استعمال کر کے یقین کے اعلیٰ درجات حاصل کرے ۔ اور اسلام کی صداقت کو نئے دلائل و براہین کے ذریعہ لوگوں کے اوپر ثابت شدہ بنائے۔ ایک سادہ مثال مذکورہ حدیث میں جس حقیقت کو بتایا گیا ہے اُس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ انسانی تاریخ کے دو بڑے دور ہیں۔ ایک قبل از سائنس دور (pre-scientific

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page