ایک سادہ مثال
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
period) اور دوسرا بعد از سائنس دور (post-scientific period)۔ اس تقسیم کے مطابق، پہلے دور کا انسان روایتی معلومات کی روشنی میں سوچتا تھا۔ اور دوسرے دور میں وہ سائنسی معلومات کی روشنی میں سوچنے لگا۔ اس حدیث کے مطابق، امت محمدی کے افراد کے لیے روایتی دور بھی ایمانی خوراک کا ذریعہ تھا۔ اسی طرح سائنسی دور میں بھی وہ اپنے ایمانی اضافہ کے لیے علمی خوراک حاصل کرتے رہیں گے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے۔ قرآن میں بار بار زمین کی نعمتوں کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک قرآنی آیت یہ ہے: اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا (40:64) ۔ یعنی، وہ اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ٹھہر اؤ ۔ اس آیت میں روایتی دور کے مؤمنین کو بھی ایمان کی غذا ملی تھی۔ یہ سوچ کر اُن کا سینہ شکرِ خداوندی کے جذبہ سے سرشار ہو گیا تھا کہ زمین کس طرح اُن کے لیے پُرسکون جائے قیام بنی ہوئی ہے۔ اگر زمین ہلتی رہتی یا وہ ہچکولے کھاتی تو اس کے اوپر پرسکون زندگی گزارنا کس قدر دشوار ہو جاتا۔ جدید سائنسی دور میں نئے ذرائع سے جو مطالعہ کیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ زمین ، سابقہ تصور کے خلاف ساکن اور بے حرکت نہیں ہے بلکہ وہ مسلسل حرکت میں ہے۔ نئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین بیک وقت دو طریقہ سے گردش کر رہی ہے۔ ایک اپنے مدار (orbit) پر سورج کے گرد، اور دوسرے خود اپنے محور (axis) کے اوپر۔ اس نئی سائنسی تحقیق نے مذکورہ آیت کی معنویت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ نئے حالات میں یہ آیت گویا مزید اضافہ کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ ۔ کیسا مہربان ہے وہ اللہ جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے سکون بنایا، باوجود یکہ زمین مسلسل طور پر دہر حرکت کر رہی ہے: It is God who made the earth a stable home for you, inspite of continuous double movement of the earth.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader