Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی نعمتوں کا گہرا احساس ہو جائے۔ وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ خدا کے انعامات کا اعتراف کرنے لگے۔ ایمان سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ خدا کی شعوری دریافت کے نتیجہ میں آدمی کے اندر جو عقیدہ بنتا ہے اُسی کا نام ایمان ہے۔ کسی مرد کے لیے عورت ان پہلوؤں سے سب سے بڑی مددگار ہے۔ مرد اور عورت اپنی روزانہ کی زندگی میں جب ایک دوسرے سے فکری تبادلہ (intellectual exchange) کرتے ہیں تو دونوں کو اس سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ خدا کی یاد کا گہرا روحانی تجربہ کرتے ہیں۔ وہ خدا کے عطیات کا تذکرہ کر کے ایک دوسرے کے اندر شکر کے جذبات کو بڑھاتے ہیں۔ وہ خدا کی ذات وصفات میں باہمی غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں دونوں کی معرفت (realization) میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھول اور کانٹا انسان کا عرصہ حیات (life span) بلین سال سے بھی زیادہ ہے۔ مگر یہ عرصہ حیات دو مختلف دوروں میں بٹا ہوا ہے۔ موت سے پہلے تقریباً سو سال اور بقیہ پوری مدت موت کے بعد۔ پہلے دور کی زندگی آج کی دنیا میں گزرتی ہے اور بعد کے دور کی زندگی کل کی دنیا میں گزرے گی ۔ آج کی دنیا ایک مخلوط جنگل کی مانند ہے۔ یہاں پھول بھی ہیں اور اسی کے ساتھ کانٹے بھی۔ کل کی دنیا میں پھول اور کانٹے ایک دوسرے سے الگ کردیئے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی ابدی دنیا بنے گی جس کے ایک حصے میں کانٹے ہی کانٹے ہوں گے اور دوسرے حصے میں پھول ہی پھول۔ آج کی دنیا میں ہر آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ابدی مستقبل کی تشکیل کرے۔ وہ اپنی زندگی کے ریکارڈ سے بتائے کہ کل کی دنیا میں وہ کانٹوں کے جنگل میں بسائے جانے کے قابل ہے یا پھولوں کے باغ میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page