تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث کی تمثیل کے مطابق، ”بارش“ کے پہلے دور میں اگر انسان سادہ طور پر یہ سمجھ کر زمین کو اپنے لیے خدا کی رحمت جانتا تھا کہ وہ اُس کے لیے پُرسکون جائے قیام بنی ہوئی ہے، تو اب بارش کے دوسرے دور میں وہ اس اضافہ کے ساتھ اس معاملہ میں خدا کا شکر کرے گا کہ دہر اطور پر مسلسل حرکت میں ہونے کے باوجود خدا نے زمین کو اُس کے لیے سکون کا مقام بنا دیا ہے۔ زندگی کی مددگار ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اُن کے لیے وعید ہے (9:34) تو بعض صحابہ نے کہا کہ اگر ہم یہ جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو لیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل چیز خدا کو یاد کرنے والی زبان ہے۔ اور خدا کا شکر کرنے والا دل ہے۔ اور وہ مومنہ بیوی جو آدمی کے ایمان پر اُس کی مدد کرے: عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتْ: اَلَّذِيْنَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [التوبة: 34] قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ. فَقَالَ: بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَدْ نَزَلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا نَزَلَ، فَلَوْ أَنَّا عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ اتَّخَذْنَاهُ فَقَالَ: أَفْضَلُهُ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر (22392۔ مادی دولت صرف دنیا کی عارضی زندگی میں کچھ راحت دے سکتی ہے۔ مگر ذکر اور شکر اور ایمان کی دولت وہ دولت ہے جو آخرت کی ابدی زندگی میں زیادہ بڑی راحت کا ذریعہ بنے گی۔ ذکر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کو یاد کرے، اس کا ذہن خدا کی سوچ میں لگا رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader