زحمت میں رحمت
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
زحمت میں رحمت ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے شیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی۔بی۔ شیلے (Percy Bysshe Shelley) ایک برٹش شاعر تھا۔ وہ 1792ء میں پیدا ہوا، اور 1822ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ پر درد نغمے ہیں: Our sweetest songs are those that tell our saddest thoughts. یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو دردمند زندگی ملتی ہے انھیں کی زبان سے پر سوز کلام جاری ہوتا ہے۔ پر راحت اور پر مسرت زندگی گزارنے والے کبھی پر سوز کلام کی تخلیق نہیں کر سکتے۔ اسی حقیقت کو فانی بدایونی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: زمانہ بر سرِ آزار تھا مگر فانی تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو جب کسی انسان کو خدا پر درد زندگی دے تو یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا اُس انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگانا چاہتا ہے۔ خدا اس انسان کو انتہائی سنجیدہ انسان بنانا چاہتا ہے۔ یہ خدا کی منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے۔ ایسے انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی ہو اور انسانیت کی تعمیر کی راہ میں اپنا وہ حصہ ادا کرے جو اس سے مطلوب ہے۔ یعنی اپنے سنجیدہ کلام اور پر درد پیغام کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی۔ ایسا انسان گویا کہ خدا کی طرف سے ایک چنا ہوا انسان (choosen person) ہوتا ہے۔ اس کو خدا کی خصوصی رحمت کا ایک حصہ ملا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے۔ وہ اپنے آپ کو احساسِ محرومی کے منفی جذبے سے بچائے۔ وہ مکمل طور پر مثبت نفسیات والا ایک انسان بنے۔ تا کہ وہ خدا کے بندوں کے درمیان وہ اصلاحی رول ادا کر سکے جو خدا نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader