Urdu book · تعمیرِ شخصیت

غلطی کا اعتراف

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

غلطی کا اعتراف میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اگر کسی معاملے میں آپ دیکھیں کہ ننانوے فیصد غلطی فریق ثانی کی ہے اور صرف ایک فیصد غلطی آپ کی ہے تب بھی آپ یہ مان لیجیے کہ ساری غلطی آپ ہی کی ہے۔ آپ کھلے طور پر فریق ثانی سے کہہ دیجیے کہ آپ صحیح ہیں، میں ہی غلطی پر تھا: You are right, I was worng. اعتراف کی اس روش کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ نزاع فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا اس سے بھی زیادہ بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی یہ روش آپ کے ذہنی اور روحانی ارتقاء میں مددگار بنتی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، معروف قسم کی متصوفانہ ورزشوں کا کوئی تعلق تزکیۂ روحانی سے نہیں۔ تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف ہے۔ حضرت عمر کے اندر اپنی غلطی کے اعتراف کا مادہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ مبالغہ آمیز طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے تھے ۔ مثلاً وہ کہتے کہ: لولا فلان لهلک عمر (اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا)۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا تزکیہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر حقیقی تواضع کی صفت پیدا ہو۔ اس کے اندر سے کبر کا مزاج نکل جائے۔ غلطی کے اعتراف کا مزاج آدمی کے اندر یہی اعلی صفت پیدا کرتا ہے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا کورس یہی ہے۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے خلیفۂ دوم عمر فاروق کے ایک قول کا حوالہ دیا ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لِهٰذَا الْاَمْرِ اِلَّا قَوِيٌّ فِيْ غَيْرِ عُنْفٍ، لَيِّنٌ فِيْ غَيْرِ ضَعْفٍ، جَوَّادٌ فِيْ غَيْرِ سَرَفٍ، مُمْسِكٌ فِيْ غَيْرِ بُخْلٍ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد6، صفحہ 330)۔ یعنی، اس کام کا اہل صرف وہی شخص ہے جو شدید ہو بغیر اکڑ کے، نرم ہو بغیر کمزوری کے، سخی ہو بغیر فضول خرچی کے، مال روکے والا ہو بغیر بخل کے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page