Urdu book · تعمیرِ شخصیت

غلطی کا اعتراف

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے اہل صرف وہ شخص ہوتا ہے جو مجموعۂ تضادات (mixture of opposites) ہو۔ مثلاً نہایت اعلیٰ ذہن کا حامل ہونے کے باوجود وہ آخری حد تک متواضع (modest) ہو۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عالم حقائق (universe of facts) اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کبھی کوئی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ مگر حقائق کا ادراک کرنے کے لیے صرف اعلیٰ ذہن کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ کامل تواضع لازمی طور پر ضروری ہے۔ کامل تواضع اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے لرننگ پر اس (learning process) پر کوئی فل اسٹاپ نہ آئے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کبر، تعلم (learning) کے عمل کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس، تواضع تعلم کے عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھتا ہے۔ میں اپنے تجربے سے یہ سمجھتا ہوں کہ ذہنی ارتقاء کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی ہر لمحہ یہ کہنے کے لیے تیار ہو کہ میں غلطی پر تھا: I was wrong. غلطی کو فوراً مان لینا، آدمی کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج نہ ہو وہ ذہنی جمود کا شکار ہو جائے گا، اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا سفر کبھی جاری نہیں رہ سکتا۔ اعتراف کے ذریعے فکری ارتقاء کا جاری رہنا کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ بلکہ وہ ایک معلوم بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کا دماغ مختلف معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی کنفیوژن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر کے دیکھ نہیں پاتا۔ یہ چیز آخر کار آدمی کو تشکیل تک لے جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ جب بھی مطالعہ یا ڈسکشن کے درمیان آدمی پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page