Urdu book · تعمیرِ شخصیت

غلطی کا اعتراف

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

ثبوت دیتا ہے کہ وہ حق سے اوپر ہے۔ سچائی اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ ایک شخص کے سامنے جب سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کر دے تو گو یا اس نے خدا کو نظر انداز کر دیا۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کوئی انجام مقدر نہیں۔ قرآن میں آیا ہے : وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (34:13) ۔ یعنی میرے بندوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔ شکر کیا ہے۔ شکر دراصل وہ چیز ہے جس کو اعتراف (acknowledgement) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتراف سب سے بڑی عبادت ہے۔ ایک طرف خدا کی نعمتوں کا اعتراف اور دوسری طرف انسان کے مقابلے میں اعتراف ۔ یہ دو چیزیں گویا دین کا خلاصہ ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ یا تو وہ اعتراف کے وقت اعتراف نہیں کرتے یا دل سے تو مان لیتے ہیں مگر زبان سے بول کر وہ اپنی غلطی کا اعتراف ضروری نہیں سمجھتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ یہ سمجھنا کہ ہم نے دل سے تو مان لیا ہے زبان سے بولنے کی کیا ضرورت ۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اعتراف نہیں ہے بلکہ منافقت ہے۔ جب آدمی قلبی اعتراف کے با وجود زبان سے کھلے طور پر اس کا اظہار نہ کرے تو یہ بے اعترافی ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ بے اعترافی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی دوسروں کے سامنے یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ اس معاملے میں بے خبر تھا۔ ٹھیک یہی نفسیات اُس انسان کی ہوتی ہے جو دل میں محسوس کرنے کے باوجود زبان سے بول کر اس کا اظہار نہ کرے ۔ یہ نہ بولنا بھی اسی لیے ہوتا ہے کہ آدمی اپنی پوزیشن کو بچانا چاہتا ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اس بات کو جان لیں کہ وہ اب تک بے خبری کا شکار تھا، یا اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہے ، یا اس نے ایسی کوئی غلطی کردی جس کی اُسے تصحیح کرنا چاہیے۔ آدمی جب معاملے کی وضاحت کے باوجود اعتراف نہیں کرتا تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page