Urdu book · تعمیرِ شخصیت

غلطی کا اعتراف

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے وہ اپنی پوزیشن کو گھٹا لے گا، دوسرے کے مقابلے میں اس کی برتری باقی نہ رہے گی۔ یہ نفسیات مکمل طور پر شیطانی نفسیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب شیطان کو حکم دیا کہ وہ آدم کے آگے جھکے تو یہ اعتراف ہی کا ایک معاملہ تھا۔ مگر شیطان نے اس اعتراف سے انکار کیا، اُس نے کہا کہ میں آدم سے برتر ہوں: أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ (7:12)۔ جب بھی کوئی آدمی بے اعترافی کا مظاہرہ کرے تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی بڑائی کے احساس میں جی رہا ہوتا ہے۔ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ اعتراف نہیں کرتا۔ حتیکہ اگر اس کا دل یہ محسوس کرلے کہ اس معاملے میں میں غلطی پر ہوں تب بھی وہ زبان سے اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتا کہ ظاہری طور پر اس کی پوزیشن برقرار رہے۔ اس کی پوزیشن پر کوئی حرف نہ آئے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی سچائی کے لیے اپنے آپ کو جھکالے اُسی کو اس دنیا میں سرفرازی ملتی ہے، اور جو آدمی اپنے جھوٹے بچاؤ کے لیے کھلے اعتراف سے پرہیز کرے وہ حقیقت کی نظر میں اپنے آپ کو نیچے گرا لیتا ہے۔ حتیکہ خود اپنے ضمیر کے سامنے بھی وہ چھوٹا بن جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف ایک اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔ غلطی کا اعتراف دراصل اپنی تواضع کو ثابت شدہ بنانا ہے۔ جس شخص کے اندر غلطی کے اعتراف کا مزاج نہیں وہ یقینی طور پر تواضع سے بھی خالی ہوگا۔ اور تواضع کے بغیر کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو غلطی کا اعتراف نہیں کریں گے۔ یا اپنے دل کے اندر غلطی کو محسوس کر کے یہ سمجھیں گے کہ انھوں نے غلطی کا اعتراف کر لیا۔ حالاں کہ غلطی کا ماننا وہی معتبر ہے جب کہ آدمی زبان سے بول کر اس کا کھلا اقرار کرے۔ دل میں غلطی کو محسوس کرنا اور زبان سے اس کا کھلا اعتراف نہ کرنا منافقت کی علامت ہے۔ ضمیر ہر انسان کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page