Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت سے رمضان میں روزہ کی سالانہ عبادت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی قمری مہینہ میں قرآن کے نزول کا آغاز ہوا۔ قرآن جیسی الہامی کتاب کا انسان کو دیا جانا بلاشبہ انسان کے اوپر بہت بڑا انعام تھا۔ اس انعام کی شکر گزاری یہی تھی کہ اس مہینہ کو خصوصی طور پر اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میں گزارا جائے۔ خدا کی شکر گزاری اور اس کی بڑائی کا اعتراف یہ ہے کہ آدمی قرآن کو اُس حیثیت سے پالے جس حیثیت سے خدا نے اس کو اپنے بندوں کے پاس بھیجا ہے۔ وہ اسی طرح آدمی کی ضرورت بن جائے جس طرح کھانا آدمی کی ضرورت ہے۔ وہ اس کو پا کر اسی طرح سیراب ہو جائے جس طرح ایک بھوکا آدمی کھانا کھا کر اور پانی پی کر آخری حد تک سیراب ہو جاتا ہے۔ شکر گزاری ، سرکشی ابو امامہ سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لیے دعا کیجیے کہ خدا مجھے مال دے دے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کرسکو: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ حَاطِبِ الْأَنْصَارِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اْدْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي اللَّهَ. قَالَ: وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، قَلِيلٌ تُؤَدِّي شُكْرَهُ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ لَا تُطِيقُهُ (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7873)۔ خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکر گزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنیا میں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page