تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
سسٹم نہیں جو صرف ہماری زمین میں خصوصی طور پر پایا جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ دراصل اسی عظیم نعمت کی یاد دہانی ہے۔ رمضان کا مہینہ یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر زمین پر لائف سپورٹ سسٹم موجود نہ ہو تو انسان کا کیا حال ہوگا۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر انسان بے یارومددگار ہو کر رہ جائے گا۔ وہ عجز کے آخری مقام پر پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد زمین پر پانی نہ ہوگا جس کو وہ پیے۔ خوراک نہ ہوگی جس کو وہ کھائے۔ آکسیجن نہ ہوگا جس میں وہ سانس لے۔ سورج کی روشنی نہ ہوگی جس میں وہ چلے پھرے۔ زمین میں قوتِ کشش نہ ہوگی جس کے اوپر وہ اپنے تمدن کی تعمیر کرے، وغیرہ۔ قرآن میں رمضان کے فائدے کو بتانے کے لیے دو لفظ استعمال کیے گئے ہیں: لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:183) ، لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (185 2)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان، آدمی کو لائف سپورٹ سسٹم کی اہمیت یاد دلاتا ہے، تا کہ وہ شکرِ خداوندی کے احساس میں غرق ہو جائے۔ اسی طرح وہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر یہ لائف سپورٹ سسٹم نہ ہو تو اس کی پوری زندگی تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ رمضان کا مہینہ ایک اعتبار سے تقویٰ کا مزاج پیدا کرتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے شکر کا مزاج۔ اور بلاشبہ انھیں دونوں قسم کے احساسات میں جینے کا نام اسلام ہے۔ انعام کی شکر گزاری رمضان کا مہینہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا لوگوں کی ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے کھلے دلائل کے ساتھ، پس جو کوئی تم میں سے اس مہینہ میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (2:185)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader